جب سے انسان نے دو پیروں پہ چلنا سیکھا
دونوں ہاتھوں نے بھی محنت کا قرینہ سیکھا
میرے مشکل کشاء دس انگلیؤں والے دو ہاتھ
پونچھنا ہاتھوں نے چہرہ سے پسینہ سیکھا
ہاتھ آزاد ہوۓ ذہن کو فرصت بھی ملی
صرف دو پیروں پہ حیوان نے چلنا سیکھا
وقت بچنے لگا گانے لگا رقصاں انسان
قافیۓ سجنے لگے شعروں کو کہنا سیکھا
ہاۓوہ لمحہ تجھے باہوں میں جب قید کیا
آنکھیں شرما گئیں شرم سے جھکنا سیکھا
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem