بجھتا بجھتا سا دکھتا ہے یہ چراغ ابھی تک زندہ ہے
ہھول تو سب مُرجھا بھی چکے پر باغ ابھی تک زندہ ہے
چند قطرے ابھی بھی رہتے ہیں اور میری زبان متحرک ہے
نہ اٹھاؤ اسے ابھی رہنے دو یہ ایاغ ابھی تک زندہ ہے
ایک شعر تو کہ لینے دو مجھے دِل میں خییال ایک باقی ہے
وہ فروغ تو بس حسرت ہی رہا یہ فراغ ابھی تک زندہ ہے
آتے ہیں اندھیرے جاتے ہیں یہ تماشہ یوں ہی ہوتا ہے
سورج کو جلنے بجھنےدو یہ چراغ ابھی تک زندہ ہے
تم کس کو ڈھونڈھ نے آئے ہو یہ دِل ہے کہاں معلوم نہیں
وہ جیتا ہے یا مر بھی چکا یہ دماغ ابھی تک زندہ ہے
میں اپنے یار کو پا نہ سکا ایک کھوجی كے پیچھے چلتا ہوں
ایک نقش قدم آتا ہے نظر یہ سراغ ابھی تک زندہ ہے
میں اپنے یار کو پا نہ سکا ایک کھوجی كے پیچھے چلتا ہوں ایک نقش قدم آتا ہے نظر یہ سراغ ابھی تک زندہ ہے And the tracer is none else but Prophet Muhammad (peace be upon him) .
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
The poetic lamp of heart still alive Anytime it can enlighten everywhere cause of eternity with royal power