یہ خاکی ایک آدمی بنا ہے یہ آگہی آگہی بنی ہے
سانس کومہ میں لے رہی تھی وہ زندگی زندگی بنی ہے
یہ آسماں بھی نراس سا تھا یہ چاند کتنا اداس سا تھا
وہ آئنہ آسماں سے اترا تو چاندنی چاندنی بنی ہے
یہ زندگی کیا تھی ایک سپنا نہ ماضی اپنا نہ حال اپنا
کسی کے قدموں کو جوما اسنے تو زندگی زندگی بنی ہے
اندھیری سنسان جو ڈگر تھی وہی محمد کی راہگزر تھی
یہ خاک پا مل گئ جو اسکو تو روشنی روشنی بنی ہے
محبتوں کا یہ راستہ ہے تمہیں محمد کا واسطہ ہے
کبھی تو اس رہ پہ چل کے دیکھو کہ یہ کھلی کھلی بنی ہے
اسے توہے شاہراہ بننا کچھ اور وسعت ہے اسکو دینا
ہزار برسوں میں کیا کیا ہے ابھی گلی گلی بنی ہے
اسے نہ دہشت سے ایسے مسلو محبتوں کی نظر سے دیکھو
صبا مدینہ سے خوشبولائ تو یہ کلی کلی بنی ہے
ایک شاندار اور اجمت بہترین نعت /// سبناللہ //// جسنے دیکھا وہ مدینہ جندگی مے اک بار چومنے رہو انکی کدمو بار بار او، او وہ آشک یہ ایسی اک راستے جس کی منزل لا مکان کی خدا کی طرف
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
What an amazing Naat, Allah kare zore qualam aor ziyadah, amen!