مٹھی میں یوں ہواوں کو نہ قید کیجئے Poem by Aftab Alam

مٹھی میں یوں ہواوں کو نہ قید کیجئے

Rating: 5.0

مٹھی میں یوں ہواوں کو نہ قید کیجئے

زندگی حسین ہے، آنکھیں تو کھولے
لب تو سلے نہیں ہیں، حق پے تو بولے

اچچھائی اور برائی ، رہنے بھی دیجئے
دشمن کو بھی دوست کا، رتبہ تو دیجئے

دےتو ہو کیون دعایں، لمبی عمر کے لئے
کر سکوں بھلائی دعا ایسی کیجئے

'ہم کیا تھے کیا ہو گئے' رہنے بھی دیجئے
گالوں پے رکھ کے ہاتھ نیا کچھ تو سونچئے

اندھیرے مے چھپا ہے کہن، اجالا دھنڑھئے
کپات بند ہیں کیوں؟ جرا انکو اب کھولے

بہ رہے ہیں آنسو، جرا انکو تو روکے
مسکان بھرنے کی اب، ترقیب سونچئے

طوفاں ہیں طوفان کو، آنے بھی دیجئے
مٹھی میں یوں ہواوں کو نہ قید کیجئے

Wednesday, March 26, 2014
Topic(s) of this poem: love
COMMENTS OF THE POEM
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success