مٹھی میں یوں ہواوں کو نہ قید کیجئے
زندگی حسین ہے، آنکھیں تو کھولے
لب تو سلے نہیں ہیں، حق پے تو بولے
اچچھائی اور برائی ، رہنے بھی دیجئے
دشمن کو بھی دوست کا، رتبہ تو دیجئے
دےتو ہو کیون دعایں، لمبی عمر کے لئے
کر سکوں بھلائی دعا ایسی کیجئے
'ہم کیا تھے کیا ہو گئے' رہنے بھی دیجئے
گالوں پے رکھ کے ہاتھ نیا کچھ تو سونچئے
اندھیرے مے چھپا ہے کہن، اجالا دھنڑھئے
کپات بند ہیں کیوں؟ جرا انکو اب کھولے
بہ رہے ہیں آنسو، جرا انکو تو روکے
مسکان بھرنے کی اب، ترقیب سونچئے
طوفاں ہیں طوفان کو، آنے بھی دیجئے
مٹھی میں یوں ہواوں کو نہ قید کیجئے
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem