اردو دنیا میں خوش آمدید
ریزہ ریزہ قوم کا شاعر
(پیشوا کاکایی: عراقی کردستان)
ترجمہ و تجزیہ
ڈاکٹر جواز جعفری
پیشوا کاکایی جواں سال شاعر ہے۔ اس کا تعلق دجلہ و فرات کے درمیان کی اس زرخیز سر زمین سے ہے جہاں اولین انسانی تہذیب نے جنم لیا۔ یہیں سے زرعی انقلاب کا اکھوا پھوٹا (اریحا کے کسانوں نے روئے زمین پر پہلی بستی آباد کی) دنیا کا پہلا تحریری آئین (حمو رابی کا قانون جس سے حضرت موسیٰ کے احکامات عشرہ نے جنم لیا) یہیں تشکیل دیا گیا، یہیں انسان نے تحریر کا فن ایجاد کیا (دنیا کی پہلی داستاں 'گل گامش' جسے مٹی کی تختیوں پر لکھ کر انہیں آگ میں پکا کر مجفوظ کیا گیا یہیں سے 'لوح محفوظ' کا تصور پیدا ہوا) ناپ تول کے پیمانے طے کیے اور کرنسی ایجاد ہوئی۔انسانوں نے اشور ، نمرود ، سمیریا ، نیور ، اریدو ، ایروک ، لگاش اور 'ار' جسیے عظیم الشان شہر آباد کیے۔ سمیریوں، عکادیوں، اشوریوں اور بابلیوں نے عظیم سلطنتیں قائم کیں۔ ہیں پہ دنیا کا پہلا مینار (مینارہ بابل) اور 'باغات معلقہ' تعمیر کیے گئے جن کا شمار عجائبات عالم میں ہوتا ہے۔
پیشوا کاکایی کا تعلق عراق کی کرد کمیونٹی سے ہے جسے پنجابیوں، کشمیریوں اور فلسطینیوں کی طرح دنیا کی مظلوم ترین کمیونٹی کہا جا سکتا ہے۔ جس کا کوئی مشترکہ وطن نہیں۔ کرد نسل کے لوگ عراق، شام، ایران، ترکی، اذربائیجان اور آرمینا سے لے کر امریکہ اور یورپ تک بکھرے ہوئے ہیں۔ مقامی ممالک سے لے کر عالمی طاقتوں تک ہر کوئی نہ صرف انہیں اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے بل کہ اپنے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کے بعد انہیں ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔ کردش زبان عربی و فارسی سے الگ ایک زبان ہے جس کے کم از کم تین لہجے کرد دنیا میں مستعمل ہیں۔ پیشوا کاکایی کی ایک نظم میں نے اردو قارئین کے لیے ترجمہ کی ہے۔اس نظم میں شاعر اپنی زبان کے حوالے سے ٹفاخر کا اظہار کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ فطری مظاہر سے بھر پر استفادہ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ امید ہے آپ کو یہ نظم پسند آئے گی۔
=====
نظم: میں کائنات کی تلاوت کرتا ہوں
شاعر: پیشوا کاکایی
⬇
کسی چمکتے ستارے
کسی دور افتادہ کہکشاں کو
کسی بے اباد سیارے
اور کسی بجھتے ستارے
(بلیک ہول)
کو
میری کردش زبان
خوش اسلوبی سے بیان کرتی ہے!
ہوا
میرے لفظوں میں
کیڑے کی طرح سرسراتی ہے
میں اپنی زبان سے لفظوں کے پھول چنتا ہوں
ہوا
میری نظم کے پیڑ کو
جڑوں سے اکھاڑتی ہے
اور اس کے تنے کو ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے
اگر یہ زمین
تیرے لہجے کی بارش میں نہانے سے انکار کر دے
تو میں اسے اپنے لفظوں کے رنگ میں رنگوں گا
میں نظم کے خلا کو
روشن ستاروں سے بھر دوں گا!
میں اپنی شیریں زبان کی سیڑھی لگا کر
تیرے دل میں اتروں گا
اور بلیک ہول کے اس پار سے
تیری آنکھوں کے نام
نئے زاویوں کے سندیسہے بھیجوں گا
تاکہ بجھتے ہوئے ستارے
پھر سے روشن ہو جائیں!
میری مٹھی میں
میری زبان کی محبت ہے
مجھے نادار مت کہو
میں اپنے لفظوں کے طلسم سے
تیری جادوئی آنکھیں،
روشن ستاروں سے
تیرے مرمریں سینے کے ابھار،
اور
رات کی تاریکی سے
تیرے سیاہ گیسو تراشتا ہوں
جو مجھے بجھتے ستاروں
(بلیک ہولز)
جیسے لگتے ہیں!
میں کائنات کی تلاوت پر مامور ہوں
سرگرداں ستارے
میری زبان کی نوک پر
(حشرات الارض کی طرح)
ٹھہر جاتے ہیں
اور میرے اذن کے بغیر
پر نہیں کھولتے
چاند
مکئی کی روٹی بن کر
میرے کان میں سرگوشی کرتا ہے
میں تیری روشن آنکھوں
اور تیرے سینے کے کوہستانوں کی
سیاحت کروں گا
میں تیری چھاتی کے لٹووں کو
بطور وقفہ
(؛)
اپنی تحریروں کی زینت بناؤں گا
تاکہ میرے لہجے میں
ٹھہراؤ پیدا ہو سکے!
===
نظم: میں کائنات کی تلاوت کرتا ہوں
شاعر: پیشوا کاکایی
ترجمہ و تجزیہ
ڈاکٹر جواز جعفری
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem