زندگی اور موت Poem by Akhtar Jawad

زندگی اور موت

Rating: 5.0

زندگی نے تو گل کھلاۓ بہت دیکھیں اب موت کیا کھلاتی ہے
زندگی نے سکھا دیۓ ہیں چلن دیکھیۓ موت کیا سکھاتی ہے
موت سے شاید اور مل جاۓ یاں تو غم بھی ملے تو کم ہی ملے
موت ایک دائمی سکوں کا سفر آ گئ تو کہیں نہ جاتی ہے
موت کو دیکھ کر سہمتی ہے زندگی کے لیۓ تڑپتی ہے
جو گیا آ نہ پایا دوبارہ دنیا قصے عجب سناتی ہے
آزمائش ہے یا نمائش ہے جو بھی ہے یہ انا ہے قدرت کی
اسکے ہر نگ ہی نرالے ہیں روتے روتے بھی مسکراتی ہے
ہے یہ آزاد نظم قدرت کی قافیہ ہے نہیں مگر ہے ردیف
درد لزت ہو یا ہو لزت درد زندگی پھربھی گنگناتی ہے
خوب صورت ہو یا ہوبد صورت پرکشش ہے تجربہ جینے کا
کسلئے تو نے کی شراب کشیداس میں کیا گھول کر ملاتی ہے
زہر بھی ہے یہی، یہی تریاق ہاۓ یہ معرکے محبت کے
مارتی بھی یہی ہے پیاسا ہمیں پیاس لیکن یہی بجھاتی ہے

COMMENTS OF THE POEM
Mahtab Bangalee 23 September 2020

Life and death the name of the fighting for the existence on the sketch of flowers and thorns a lot of learning the life gives but the dearth gives more than that but we live like the erroneous tales drinking the solid wines of delusional beauty of life............

0 0 Reply
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success