ریگزاروں میں عرب کے کسقدر ذیشان ہے
یہ غرور صحرہ ہے اسکی نرالی آن ہے
اس جگہ آ کر منافق کی ہوئی پہچان ہے
درمیان حق و باطل فیصل فرقان ہے
آ تجہے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے
سر پہ سایہ ماں کے آںچل کا چلے غازی جواں
آج اپنے عشق کا دینا ہے انکو امتحاں
آج کے دن لٹ گیا جو ہو گیا وہ جاوداں
چند سو افراد کا ایماں ہے ہوں گے کامراں
وہ علی ہو یا عمر یک پیکر ایقان ہے
آ تجہے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے
تین سوتیرہ مسلماں اورعدو انکے ہزار
بے سر و ساماں ہیں لیکن ہیں یہ شیر کردگار
انکی نصرت کےلیئےاتری فرشتوں کی قطار
یہ موئحد ہیں یہ مومن انکا ہے پرور دگار
یہ ملایک کےلیئے اعزاز عالی شان ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے
چند ہیں گھوڑے مگر لرزیدہ رن ہے ٹاپ سے
برق سہمی ہے شکستہ اسلحوں کے تاپ سے
بر سر پیکار بیٹا ہو گیا ہے باپ سے
لڑ رہے ہیں آج تو صدیق اپنے آپ سے
دیکھو یہ ہے صدق یہ ہےعشق اور یہ ایمان ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے
آج اس غزوہ میں جو ہمراہئی کفار ہے
بو عبیدہ کی نگاہوں میں نہ رشتہ دار ہے
اسکی خاطر آج بس نیزہ ہے یا تلوار ہے
اب جو اسکا ہے تو بس ایک سید الابرار ہے
حق کی خاطر آج اپنا باپ بھی قربان ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے
دین دشمن طاقتوں سے یوں لڑے بھر پور آج
امتحان عشق میں ہو کر رہے منصور أج
آسماں وا لےکی نظروں میں ہوئے منظور آج
اگلی پچھلی سب خطائیں ہو گئیں کافور آج
انکی مدحت میں گل افشاں قاررئ قرآن ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے
اسلحہ تکثیر کوئ شے نہیں میدان میں
جزبئہ کامل اگر موجود ہو انسان میں
پا لے ایک مخلص قیادت وہ اگر بحران میں
قوئت جبرائیل آ جائے گی جسم و جان میں
فیصلہ کن جنگ میں قوئت ایمان ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے
سر پہ سایہ ماں کے آںچل کا چلے غازی جواں The first Islamic flag was made by a a Dopattah of Ummul Momineen Hazrat Ayesha (RA) .
This poem has not been translated into any other language yet.
I would like to translate this poem
I can't read the script but what I understand from the poet's note that it is a beautiful poem!