بدر کا میدان Poem by Akhtar Jawad

بدر کا میدان

Rating: 5.0

ریگزاروں میں عرب کے کسقدر ذیشان ہے
یہ غرور صحرہ ہے اسکی نرالی آن ہے
اس جگہ آ کر منافق کی ہوئی پہچان ہے
درمیان حق و باطل فیصل فرقان ہے
آ تجہے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے

سر پہ سایہ ماں کے آںچل کا چلے غازی جواں
آج اپنے عشق کا دینا ہے انکو امتحاں
آج کے دن لٹ گیا جو ہو گیا وہ جاوداں
چند سو افراد کا ایماں ہے ہوں گے کامراں
وہ علی ہو یا عمر یک پیکر ایقان ہے
آ تجہے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے

تین سوتیرہ مسلماں اورعدو انکے ہزار
بے سر و ساماں ہیں لیکن ہیں یہ شیر کردگار
انکی نصرت کےلیئےاتری فرشتوں کی قطار
یہ موئحد ہیں یہ مومن انکا ہے پرور دگار
یہ ملایک کےلیئے اعزاز عالی شان ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے

چند ہیں گھوڑے مگر لرزیدہ رن ہے ٹاپ سے
برق سہمی ہے شکستہ اسلحوں کے تاپ سے
بر سر پیکار بیٹا ہو گیا ہے باپ سے
لڑ رہے ہیں آج تو صدیق اپنے آپ سے
دیکھو یہ ہے صدق یہ ہےعشق اور یہ ایمان ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے

آج اس غزوہ میں جو ہمراہئی کفار ہے
بو عبیدہ کی نگاہوں میں نہ رشتہ دار ہے
اسکی خاطر آج بس نیزہ ہے یا تلوار ہے
اب جو اسکا ہے تو بس ایک سید الابرار ہے
حق کی خاطر آج اپنا باپ بھی قربان ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے


دین دشمن طاقتوں سے یوں لڑے بھر پور آج
امتحان عشق میں ہو کر رہے منصور أج
آسماں وا لےکی نظروں میں ہوئے منظور آج
اگلی پچھلی سب خطائیں ہو گئیں کافور آج
انکی مدحت میں گل افشاں قاررئ قرآن ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے


اسلحہ تکثیر کوئ شے نہیں میدان میں
جزبئہ کامل اگر موجود ہو انسان میں
پا لے ایک مخلص قیادت وہ اگر بحران میں
قوئت جبرائیل آ جائے گی جسم و جان میں
فیصلہ کن جنگ میں قوئت ایمان ہے
آ تجھے بتلائوں میں کیا بدر کا میدان ہے

Friday, June 1, 2018
Topic(s) of this poem: faith
POET'S NOTES ABOUT THE POEM
Prophet Muhammad was forced to migrate from Makkah to Medina. At Medina he was attacked by an army of 1000 warriors fully equipped with modern weapons (of that time) and a mighty cavalry. The great humanist the great politician, not a desert fox rather a lion in desert, a great general fought a defensive war in an aggressive manner with only 313 obedient and faithful companions and defeated an army of 1000. He proved morale is to physical is as 10 is to 3, only few casualties against a much larger number of the defeated side's casualties, most of the enemies were captured as prisoners of war. This great event happened on 17th of Ramadhan (the month of fasting for the Muslims) , the day that is today. A hungry and thirsty lion alone can kill four elephants.
COMMENTS OF THE POEM
Dr Dillip K Swain 14 June 2018

I can't read the script but what I understand from the poet's note that it is a beautiful poem!

0 0 Reply
Khalida Bano Ali 04 June 2018

An amazing page from the history of Islam.

0 0 Reply
Akhtar Jawad 01 June 2018

سر پہ سایہ ماں کے آںچل کا چلے غازی جواں The first Islamic flag was made by a a Dopattah of Ummul Momineen Hazrat Ayesha (RA) .

0 0 Reply
READ THIS POEM IN OTHER LANGUAGES
Close
Error Success